جس کنویں میں مستعمل پانی اندر جائے اس سے وضو وغیرہ کا حکم!
سوال
دیہات میں اکثر لوگ کنویں پر غسل جنابت وغیرہ کرتے ہیں اور مستعمل پانی کنویں میں گرتا ہے نیز عورتیں بھی بہت بے احتیاطی سے غسل کرتی ہیں مستعمل پانی کنویں میں گرتا ہے مگر تمام ضروریات اس کنویں سے پوری ہوتی ہیں لہذا اس کا استعمال وضو وغسل میں کیسا ہے؟ جائز ہے یا نا جائز اس کو پاک سمجھا جائے یا نا پاک؟
جواب
جب تک یہ تحقیق نہ ہو کہ نجاست (پیشاب پاخانہ منی وغیرہ) اس پانی بھرنے اور نہانے کی وجہ سے کنویں میں گر رہی ہے اس سے کنویں کو نجس نہیں کہا جائے گا، جو لوگ غسل جنابت وہاں کرتے ہیں ان کو بتا دیا جائے کہ وہ نجاست حقیقیہ پہلے علیحدہ پاک کر لیا کریں اور غسل ایسی طرح کریں کہ پانی کنویں میں نہ جائے جب تک کنویں میں نہ جائے تب تک کنویں کو نجس قرار نہیں دیا جائے اس کا پانی وضو وغیرہ میں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔