ماء مستعمل کسے کہتے ہیں؟
سوال
زید وعمر وبکر کا باہم تنازع ماء مستعمل میں ہے، زید کا بیان ہے کہ ماء مستعمل وہ پانی کہلاتا ہے کہ غسل یا وضو کرتے ہوئے اعضاء سے جدا ہو کر زمین پر گرے اسی ماء مستعمل کا یہ حکم بیان کیا جاتا ہے کہ وہ خود پاک ہے لیکن دوسری شئی کو پاک نہیں کر سکتا، گو اعضاء پر نا پاکی نہیں لگی ہوئی ہوتی مگر چونکہ اس کو بھی علی وجہ القربة استعمال کیا جاتا ہے اور معنی اس سے حدث کا ازالہ ہوتا ہے اس وجہ سے اسکا یہ حکم رکھا گیا ہے، بایں وجہ زید ماء مستعمل کی تعریف کرتے ہوئے یہ دعوی کرتا ہے کہ وضو کرتے ہوئے جو پانی مساجد کی نالیوں میں گرتا…
جواب
ماء مستعمل وہ ہیکہ جس سے حدث کو زائل کیا گیا ہو، یا علی وجہ القربت بدن میں استعمال کیا گیا ہو اور عضو سے علیحدہ ہوتے ہی اسکو مستعمل کا حکم دیدیا جائیگا اس سے پہلے اسکو مستعمل نہیں کہا جائیگا، خواہ بدن پر لگا ہوا ہو یا لوٹے وغیرہ میں بعد وضو موجود رہے، لہذا جو پانی وضو اور غسل کے بعد برتن، لوٹے وغیرہ میں بچ رہتا ہے وہ مستعمل نہیں اس کو پینا اور رفع حدث وغیرہ میں استعمال کرنا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔