استعمال شدہ پانی
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء دین مسئلہ ذیل میں۔ زید کہتا ہے کہ اگر لوٹے میں وضو کے لئے پانی رکھا گیا اور متوضی کی انگلی یا کسی اور شخص کی جو کہ بے وضو ہو انگلی پڑگئی تو وہ پانی ماء مستعمل ہو جاتا ہے اور پھر اس سے وضو کرنا جائز نہیں ہے۔ ماء مستعمل کب ہوتا ہے اور کتنے عضو کے پانی میں پڑنے سے پانی مستعمل ہو جاتا ہے۔ وكذا إذا وقع الكوز في الجب فادخل يده فيه الى المرفق لاخراج الكوز لا يصير مستعملاً بخلاف ما إذا ادخل يده في الاناء أو رجله للتبرد فانه يصير مستعملاً لعدم الضرورة هكذا في الخلاصة.
جواب
ماء مستعمل سے وضو جائز نہیں لیکن اگر ماء مستعمل اور غیر مستعمل مخلوط ہوں اور غیر مستعمل زیادہ ہو تو وضو جائز ہے کیونکہ مفتی بہ اور مختار قول کے مطابق ماء مستعمل طاہر غیر مطہر ہے جب لوٹے میں ایک انگلی یا گھڑے میں چند انگلیاں ڈوب جائیں تو اس سے وہ تمام یا اکثر مستعمل نہیں ہوتا بلکہ جس قدر حصہ ماء سے انگلی ملاقی ہوگی اس قدر حصہ مستعمل ہوگا اور وہ بہت ہی قلیل مقدار ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔