جائیداد میں شرکت
سوال
محمد رضاء عرف جمن صاحب نے بنارس میں ایک مکان خریدا، اور یہیں رہنے لگے، محمد رضاء عرف جمن صاحب کے دولڑکے تھے، بڑے کا نام رحمت اللہ اور چھوٹے کا نام محمد شمس الدین تھا، محمد رضاء صاحب سلائی کا کام کرتے تھے، اور محمد رحمت اللہ نے پہلے کمپاؤنڈری سیکھی، اور اس کے بعد حکیمی کرنے لگے تھے، محمد رضا عرف جمن اور رحمت اللہ دونوں الگ الگ کام کرتے تھے، اور روپیہ دونوں دیتے تھے، جس سے گھر کے تمام اخراجات پورے ہوتے تھے، بعد میں محمد رضا نے کام بند کر دیا، جس کی وجہ سے وہ گھر کے لئے اخراجات نہ دیتے تھے، صرف محمد رحمت اللہ ہی گھر…
جواب
جو مکان محمد رضاء عرف جمن نے بنارس میں خریدا وہ ان کا ترکہ ہے، ورثہ شرعی میں حصوں کے موافق تقسیم ہوگا، محمد رضاء اور محمد رحمت اللہ کا بنارس میں کام الگ الگ تھا، کمائی ہر ایک کی مستقل تھی (مشترک نہیں تھی) البتہ گھر کا خرچ مشترک چلاتے تھے، اس کمائی کے دونوں جداگانہ مالک تھے، پھر محمد رضا نے کام بند کر کے کمائی کا سلسلہ بند کر دیا،صرف محمد رحمت اللہ کماتے اور سب خرچ برداشت کرتے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔