الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بڑا بھائی اپنا حصہ فروخت کر سکتا ہے نہ کہ چھوٹے بھائی کا

سوال

ایک شخص اپنے پس پشت دولڑکوں کو چھوڑ کر انتقال کر گیا، ان میں سے ایک بالغ تھا، اور ایک نابالغ، بالغ لڑکے نے والد کی جائیداد کو فروخت کر دیا، اور کچھ گورنمنٹ کی ملکیت ہوگئی لیکن نا بالغ بھائی کی بغیر اجازت اس نے یہ جرات کی ہے، اور بحمد اللہ فی الحال دونوں بھائیوں کے درمیان تعلقات خوشگوار ہیں، اب نا بالغ بھائی بالغ ہونے کے بعد اپنا حق طلب کرتا ہے، اب آپ سے سوال یہ ہے کہ جو چھوٹا بھائی خود مختار ہے، وہ اپنا حق لینا چاہتا ہے، اور جن کو فروخت کیا گیا ہے، انہیں حضرات سے لینا چاہتا ہے، تو کیا حق طلبی دوم و ہی شئی اول بار…

جواب

بڑے بھائی کو اپنا حصہ فروخت کرنے کا اختیار ہے، چھوٹے بھائی کا حصہ فروخت کرنے کا اختیار نہیں کہ اس کے حصہ کی بیچ نہیں ہوئی، وہ بالغ ہونے پر اپنے حصہ کے بقدر بیع کو ختم کر کے اپنا حصہ لینا چاہے تو لے سکتا ہے، خریدار اس کے حصہ کی قیمت بڑے بھائی سے وصول کرے، یہ بھی درست ہے کہ چھوٹا بھائی اپنا حصہ مستقلاً پہلے خریدار یا کسی اور کے ہاتھ فروخت کرے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو