الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شرکت وتقسیم

سوال

زید و عمر کے نام سے ایک فرم تھی، جس میں سنگی رسمی کا کام ہوتا تھا، جس کے مالک اور کام پرداز زید، خالد، سلمان، صابر تھے، خوردونوش یکجائی تھی، سلمان نے آپس کے تعلقات کی ناخوشگواری کی شکل میں سرمایہ اور مکان میں سے اپنا حصہ لے کر الگ کام شروع کر دیا، اس کے بعد زید، خالد وصابر مالک فرم رہے، اور خورد و نوش یکجائی رہی، اس کے بعد خالد کا انتقال ہو گیا، کچھ دنوں کے بعد زید وصابر نے خالد کی اہلیہ کو حصہ شرعی کے مطابق سرمایہ و مکان دیکر مطمئن کر دیا، وہ الگ رہنے لگی، اس کے بعد زید کا انتقال ہو گیا، جس نے دولڑ کے بالغ واقد…

جواب

اگر ان کے پاس قیمت ثبوت ہے کہ الگ سرمایہ سے انہوں نے اراضی حاصل کی ہے، مشترک سرمایہ سے حاصل نہیں کی ہے، تو ان کی بات تسلیم کی جائیگی، اور اس اراضی کو مشترک نہیں قرار دیا جائے گا، یعنی کل فرم میں جتنے شرکاء ہیں ان کو حصہ دار نہیں تصور کیا جائیگا جس کا سرمایہ اس اراضی میں لگا ہے وہی مالک ہے، دوسروں کو اس کے مطالبہ کا حق نہیں ہے، اگر ثبوت نہیں تو جس جس کا حصہ اس مشترک فرم اور…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو