روپیہ کی قیمت میں کمی زیادتی کا اثر
سوال
چند بھائیوں کے پاس ان کے والد مرحوم کی مشترکہ جائیداد ہے، ان سب بھائیوں نے باہمی آپسی رضامندی سے یہ معاہدہ کیا تھا، کہ اس مشترک جائیداد کی آمدنی سے ہر بھائی یکے بعد دیگرے ایک مرتبہ حج فرض ادا کرے، اتنی رقم کا ایک ساتھ جمع ہونا مشکل تھا، کہ سب ایک ساتھ حج کریں یہ معاہدہ ۱۹۶۳ء میں ہوا تھا، اس وقت جہاز کا تھرڈ کلاس کا کرایہ ساڑھے پانچ سو روپیہ تھا، اور ہر حاجی کو ایک ہزار روپیہ لے جانے کی اجازت تھی ۱۹۶۰ء میں ایک بھائی نے حج بھی ادا کیا، جس میں سولہ یا سترہ سو کی رقم خرچ ہوئی، بقیہ بھائیوں کا حج ادا کرنا باقی ہے، اب…
جواب
نوٹ کی قیمت کا کم ہونا اندرون ملک کچھ زیادہ اثر انداز نہیں حج وغیرہ کے سلسلہ میں ضرور اثر انداز ہے، جو معاہدہ ہوا تھا، وہ اگر چہ صراحت رقم کی تعین کے ساتھ نہیں ہوا تھا، مگر سرکاری طور پر معین ہونے کی وجہ سے گویا کہ رقم متعین ہی تھی لیکن یہ بھی ظاہر ہیکہ اس معاہدہ میں رقم مقصود اصلی نہیں ورنہ معاہدہ کی یہ شکل بھی ممکن تھی کہ ہر شریک ایک سال کے وقفہ سے اپنی اپنی رقم مشترک آمدنی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔