الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مشتر کہ رقم سے تجارت

سوال

مختلف لوگوں کی روانہ کردہ رقم میری رقم ایک جگہ کر کے خرید و فروخت کرتی رہی ایسی مشترکہ رقم سے خریدی ہوئی چیز پر جو فروخت کی ہوں اس پر جو نفع آیا وہ جائز ہے؟ کیا بوجہ لا علمی اس دفعہ استعمال کر کے آئندہ احتیاط کرنے کا ارادہ درست ہے؟ یا اب بھی جو نفع آیا وہ بھی نہیں لینا؟ اس کے لئے کوئی جواز نکل سکتا ہے کیا؟

جواب

دوسرے کی رقم جب اپنے کام میں خرچ کرے گی اگر اس نے اس کو معاف کر دیا تو انشاء اللہ تعالیٰ کافی ہے، آئندہ احتیاط کریں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو