مشترکہ مکان کی مرمت ایک شریک کرایہ دے تو؟
سوال
مشترکہ مکان کا کوئی وارث خطرۂ انہدام سے بچنے کے لئے اگر کسی شخص سے یہ معاملہ کرے کہ مکان کی مرمت کرادو، مکان کرایہ پر رہنے کے لئے دید یا جاویگا، اور خرچ کردہ رقم کرایہ میں محسوب ہوتی رہے گی، اگر دیگر ورثاء نہ خود مرمت کرائیں، نہ اس معاملہ پر راضی ہوں اور خود وہ دوسرے مکان میں مقیم ہوں، کیا اس قسم کا معاملہ کسی ایک وارث کے لئے جائز ہے؟
جواب
اگر مکان قابل قسمت نہیں تھا، یا بقیہ شرکاء کسی طرح تقسیم کے لئے راضی نہیں تھے، اور بذریعہ حکومت جب تک تقسیم کیا جاتا، اس کے منہدم ہو جانے کا قوی اندیشہ ہو چکا تھا، تو یہ معاملہ کر لینا درست ہے، اور معاملہ مذکورہ کر لینے کے بعد بھی بقیہ شرکاء کا حق اسی طرح باقی رہیگا، جس طرح پہلے تھا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔