مشترک زمین میں امرود کے درخت کا مالک کون ہے
سوال
ایک مکان موروثی دو سگے بھائیوں کے درمیان تقسیم ہوا، مثلاً زید اور بکر کے درمیان اس تقسیم سے پہلے زید نے مکان مذکور میں ایک درخت امرود کا اپنے شوق سے لگایا، اس کی پرورش کی وہ بڑا ہو کر پھل لایا لیکن جب تقسیم ہوئی، تو وہ درخت بکر کے حصہ میں چلا گیا، اب وہ درخت مع جڑ کے بکر کی زمین میں ہے، اور درخت کی کچھ شاخیں دیوار اٹھنے کے باوجود زید کے حصہ میں لٹک رہی ہیں، اب سوال یہ ہے کہ شرعاً وہ درخت کس کا ہے، اس کا کون مالک ہے، جو حصہ بکر کی طرف لٹک رہا ہے، کیا اس کے پھل کا بکر مالک ہے؟
جواب
باہمی مصالحت سے یا سرکاری تقسیم سے جب وہ امرود کا درخت دوسرے بھائی کے حصہ میں آگیا، اور اس تقسیم پر دونوں رضامند ہو گئے، تو اب وہ اس کا ہے جس کے حصہ میں آگیا اور اس کی ان شاخوں سے بھی امرود توڑ نا درست نہیں، جو لگانے والے کے مکان کی طرف ہیں الا یہ کہ وہ بھی رضا مند ہو۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔