الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سودی کمپنی کے حصص خریدنا

سوال

موجودہ دور میں محفوظ سرمایہ مثلاً زرعی جائداد و مکانات وغیرہ سب خطره میں ہے، کیونکہ جو قابض ہو جاتا ہے، وہ چھوڑتا نہیں، اس لئے محفوظ سرمایہ کے لئے کمپنی کے حصص خرید نا کیسا ہے، جبکہ آج کل علماء نے بیمہ کی حالت موجودہ میں اجازت دیدی ہے؟

جواب

یہ سب دشواریاں بڑے سرمایہ کے لئے ہیں، جس کے ذریعہ منڈی میں اپنی خاص اونچی حیثیت قائم کرنا اور نام پیدا کرنا مقصود ہوتا ہے، اپنی گذر اوقات اور نفقات واجبہ ادا کرنے کے لئے نہ اتنے سرمایہ کی ضرورت ہے، نہ اس میں دشواریاں ہیں، لہذا غیر ضروری سرمایہ فراہم کرنے کیلئے ممنوعات شرعیہ کا ارتکاب وبال ہی وبال ہے خواہ سودی کمپنی کے حصص ہوں یا کوئی اور صورت۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو