الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

خرچہ، مقدمہ شریک سے وصول کرنا

سوال

ایک مقدمہ ۱۹ مارچ ۱۹۵۰ء کو جوڈیش افسر ” اعظم گڑھ کے اجلاس میں شروع ہوا، ۱۶ر جولائی ۱۹۵۳ء کو ختم ہوا، زید رشتہ میں بکر کا بھتیجہ ہے، زید ابتدائی مقدمہ دو تین بار علی الحساب خرچ دیا، مگر آئندہ روئداد مقدمہ سے اندازہ ہزیمت تصور کر کے اخراجات کا جب زید سے مطالبہ کیا تو زید خاموش رہا، اور کسی طرح کی دل چسپی نہیں لی، بکر مجبور ہوا، اور مکمل پیروی و اخراجات کرتا رہا، بالآخر ۱۲ جولائی ۱۹۵۳ء کو مقدمہ نامکمل فیصل ہوا، بکر کو اس فیصلہ سے تسلی نہیں ہوئی، ۱۱ اگست ۱۹۵۳ء میں بکر نے بحیثیت مدعی دعوی ۱۹۵۳/۱۱۴۰ء بعدالت منصفی محمد…

جواب

اگر یہ جائیداد بکر کی خود بذریعہ بیع وغیرہ حاصل کردہ نہیں، بلکہ بطور میراث والد سے ملی ہے، اور والد بکر کے انتقال کے وقت بکر کے بھائی (زید کے والد) بھی زندہ تھے، تو یہ دونوں بھائی (بکر اور والد زید) اس جائیداد میں برابر کے شریک ہیں، اگر کوئی مقدمہ نہ ہو، اور اس میں چچا بھتیجہ نے کوئی معاملہ طے کیا کہ مقدمہ لڑ کر جائیداد حاصل کی جائے، اس میں جو کچھ خرچ ہوگا، وہ ہر شریک پر بقدر…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو