دوکان میں شرکت کی ایک صورت
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ احمد ایک دوکاندار ہے، جس کی دوکان میں صرف ایک ہزار کا مال ہے، اس نے رفیق اور عمر سے یہ طے کیا کہ رفیق دس ہزار روپے، عمر پانچ ہزار روپے دینگے، اور احمد کی دوکان کا ایک ہزار کا مال بھی اس میں شامل ہوگا، کل ۱۶۰۰۰ روپئے ہوئے ان ۱۶۰۰۰ ہزار روپے سے کاروبار کی ذمہ داری احمد پر ہوگی، احمد اس رقم سے مال خریدے گا، مشترکہ رقم سے مال خرید کر اپنی دوکان کیلئے مال کی قیمت پر دوفی صد منافعہ دیکر بطور قرض خرید لیگا، اور قسطوار قرض ادا کرتا رہے گا، مال کے لانے میں جو نقصان ہوگا،…
جواب
احمد کی دوکان میں جس قدر مال اب موجود ہے اس کے سولہ حصہ بنا کر دس حصے رفیق خرید لے، پانچ حصے عمر خرید لے، ایک حصہ احمد کا رہ جائے گا، اب تینوں اس میں اسی نسبت سے شریک رہیں گے، احمد اس روپے سے مال خرید کر دوکان کو ترقی دے اور آپ کے لکھے ہوئے طریقے پر تینوں کی شرکت میں کام ہوتا رہے، شرعاً درست ہو گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔