الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قبضہ کی جائداد میں شرکت کی ایک صورت

سوال

زید نے ایک کھیت پر ایسے وقت میں قبضہ کیا کہ عام طریقہ سے لوگ زمینوں پر قبضہ کر رہے تھے، اس دور میں زید نے اس کھیت پر قبضہ کیا، مگر اس وقت زید کے تین بھائی تھے لیکن ایک بھائی اس پر قبضہ کرنے سے پہلے ہی الگ ہو گئے تھے، اور زید و بکر دونوں ایک ساتھ رہتے تھے، مگر زید نے قبضہ کرنے کے بعد جب نام لکھوانے کا وقت آیا تو صرف اپنا نام لکھوایا، اور بکر کا نام نہیں لکھوایا، حالانکہ دونوں کا نام مشترک ہوا کرتا تھا، پھر زید کا انتقال ہو گیا، اس وقت زید کے دو بیٹے تھے، اور بکر کے دولڑکے اور دولڑکیاں تھیں، اور بکر کا انتقال زید سے…

جواب

کسی دوسرے کے کھیت پر بلا وجہ شرعی قبضہ کرنا جائز نہیں، اور ایسا قبضہ کرنے سے قابض کی ملک بھی ثابت نہیں ہوئی، پس اگر زید نے اس کھیت پر قبضہ کر کے ایسی صورت کر لی تھی، جس سے وہ شرعی مالک ہو گیا تھا، تو اسمیں بکر کا حق نہیں تھا، بکر نے اسمیں روپیہ خرچ بھی نہیں کیا تھا، زید نے ہی اپنا ذاتی روپیہ خرچ کیا تھا، پھر زید و بکر کے انتقال کے بعد اس کھیت کو مشترک مان کر دونوں کے ورثاء کے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو