کاشت میں ایک بھائی کا نام درج ہے کام سب کا مشترک ہے
سوال
(۱) ایک کھیت جو باپ دادا کے زمانہ سے چلا آتا ہے، اور لگان پر تھا، کاشت نہیں تھی، اور ہم لوگ مشترک تھے، تین بھائی تھے، اور اس زمانہ میں ایک بھائی کے نام سے کاشت لگ گئی، اور ہم لوگ برابر (کاشت) زراعت کرتے چلے آئے، اور علیحدہ ہو جانے کے بعد بھی کھیتی مشترک رہی، اب آپس میں ایک نام کی بناء پر اختلاف پڑا ہوا ہے تو شرعاً تینوں بھائیوں کا حق ہوتا ہے یا نہیں؟ (۲)
جواب
(۱) جب زبانی معاملہ مشترک ہے، اور اس پر عمل درآمد ہے اور کاغذ میں صرف ایک بھائی کا نام درج ہونے کے باوجود تینوں بھائی مشترک کاشت کرتے چلے آئے، تواب اختلاف اور تردد کی کوئی وجہ نہیں بلاتردد تینوں شریک ہیں، اور وہ کاغذی اندراج محض کاغذی ہے، کچھ مؤثر نہیں، جیسا کہ ہزل کی صورت میں طے شدہ معاملہ کا اعتبار ہوتا ہے، ایسا ہی یہاں پر بھی ہوگا، یہ اندراج ہزل سے زیادہ نہیں۔ (۲)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔