نیلام در نیلام
سوال
ایک جنگل کے نیلام کا اعلان ہوا، ایک جماعت اس کی خریداری کیلئے تیار ہوئی اور آپس میں معاہدہ کر لیا کہ اس کو متفقہ طور پر خرید لیا جاوے، کسی ایک کے نام، اور سب شریک رہیں، اس کے بعد آپس میں اس کی بولی بولی جاوے، جو شخص جتنے نفع پر اس کا خریدار ہو اس کا منافع وہیں ختم ہو جائے گا، اسی طرح سے اور باقی شرکاء کریں گے، مثلاً نیلام کو زید نے سو روپیہ میں لیا جس میں دس شریک ہیں، اب عمر نے اس جنگل کی قیمت ۱۵۰ روپیئے تجویز کی کہ اتنے میں میں خریدار ہوں اس سے زیادہ میں نہیں، تیسرے شریک نے اس کی قیمت دو سو روپیہ تجویز کی کہ میں…
جواب
جب خریدنے میں برابر کے شریک ہیں تو نفع میں بھی برابر ہی کے شریک رہیں گے، محض قیمت تجویز کرنے سے نفع کی زیادتی نا جائز ہے، ہاں اگر کوئی شریک دوسرے شرکاء کے حصے بھی خرید لے تو ان کے حصوں کا نفع بھی یہی لیگا، جو حکم مجموعہ دس شرکاء کا ہے وہی دوشریکوں کا ہے، اور جس شریک کا حصہ جتنے میں خریدے گا اسی حساب سے نفع دے گا، اور خریدنے کا مطلب یہ ہے کہ بیع قطعی ہو کر معاملہ طے ہو جائے صرف…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔