مشترکہ روپیہ سے تجارت اور نفع سے حج
سوال
چند احباب کا ارادہ ہے کہ گیارہ آدمی فی نفر دو سو روپے ڈال کر مشترکہ تجارت کریں، اور جو کچھ نفع ملے اس کے ذریعہ دو سال کے بعد گیارہ آدمی مل کر حج کے لئے جائیں، کیا یہ معاملہ صحیح ہے، اور اس طرح حج کرنا درست ہے؟
جواب
اسطرح اور اس نیت سے تجارت تو درست ہے مگر حج کی شرط نہ لگائی جائے، ہر ایک کا نفع اسکو دیدیا جائے اسکا جو دل چاہے کرے حج پر مجبور نہ کیا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔