الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بلا اجازت شرکا ء ایک شریک کا مشترکہ زمین میں کاشت کرنا

سوال

(۱) زید، عمر، بکر، خالد کا مشترکہ باغ ہے، جس کی تقسیم ان چاروں کے درمیان نہ قانونی ہوئی اور نہ باہمی رضامندی سے، اب اگر ایک شریک اس میں کاشت کرے اور دوسرے شرکاء کو کچھ نہ دے تو ایسی صورت میں دوسرے شرکاء کو منافع طلب کرنا یا حساب مانگنے کا حق پہنچتا ہے، یا نہیں؟ ایسے شخص کا یہ کہنا کہاں تک درست ہے کہ میں نے جو کچھ کاشت کی ہے وہ اپنے حصہ رسد کے اندر ہی کی ہے، اس لئے دوسرے شرکاء کی رضا مندی کی ضرورت نہیں۔ (۲)

جواب

بغیر دیگر شرکاء کی رضا مندی کے اسکو کاشت نہیں کرنا چاہئے تقسیم کرالے پھر اپنےحصہ میں کاشت کرلے لیکن موجودہ صورت میں جب اس نے اپنے حصہ ہی میں کاشت کی ہے اور دیگر شرکاء نے اجازت نہیں دی تو انکو پیداوار میں حصہ طلب کرنے کا بھی حق نہیں۔ (۲)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو