استفتاء متعلق سوال بالا
سوال
(۱) اس رقم کے اندر ماں، باپ، بھائی بہنوں کا حق ہے یا نہیں؟ (۲) جو مکان اس نے خریدا ہے اس کے اندر بھائیوں کا حق ہے یا نہیں؟ (۳) اس کو اس طرح علیحدہ ہونا جائز تھا جبکہ اور بھائیوں کی شادیاں نہیں ہوئیں، اور برسر روزگار بھی نہیں؟ (۴) اس کو قرضہ دینا جائز تھا یا نہیں، جو کہ شاملات رہتے ہوئے ہوا؟ (۵) اگر وہ مکان فروخت کرے تو جو مزدوری میری خرچ ہوئی ہے لینا جائز ہے یا نہیں؟ (۶) اگر وہ ہمیں رقم دے تو اس کو ماں باپ بھائی بہنوں میں کس طرح تقسیم کریں؟ (۷)
جواب
(۱) اگر ماں باپ بھائی بہنوں سے چوری کی ہے تب تو سب انہیں کی ہے، اگر خود کمائی ہے تو خود اس کمانے والے کی ہے، ماں باپ وغیرہ کا اسمیں حق نہیں، ہاں جو کچھ انہوں نے اس پر خرچ کیا ہے، اگر قرض کہہ کر خرچ کیا ہے وہ لے سکتے ہیں، اور بوقت حاجت والدین کا نفقہ اولاد کے ذمہ ہوتا ہے، جس میں دوسری اولاد کے ساتھ یہ بھی شریک ہے۔ (۲) اس میں بھائیوں کا حق نہیں۔ (۳)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔