جانوروں کی مضاربت میں شرکت
سوال
(۱) مضاربت کے عقد میں رقم دینے والا اس شرط پر رقم دے کہ جانوروں کی تجارت کرو، خریدنا چرا نا تمہارے ذمہ ہے، تو جانوروں کا چرانا اس پر صحیح ہے یا نہیں؟ مدلل حوالہ سے جواب مطلوب ہے؟ (۲) مضاربت میں رقم دہندہ دو شخصوں سے کہے کہ ایک تم میں سے مال خریدے اور دوسرا مال چرا وے با تعیین یعنی خریدنے والے کی اور چرانے والے کی تعیین کر کے دوسری شرائط مضارب کی تصحیح کر کے کہے تو یہ اختیار مضارب کو ہے یا نہیں؟ (۳)
جواب
(۱) اگر اس کا یہ مطلب ہے کہ جانور خرید کر ان کی تجارت کرو، اور ان کے فروخت ہونے تک جب انکو چرانے کی ضرورت پیش آئے تو خود چرا کر لاؤ تو یہ شرط مقتضائے عقد کے موافق ہے، اور صحیح ہے، اگر یہ مطلب ہے کہ ان جانوروں کیلئے گھاس اپنی قیمت سے خریدو میں قیمت نہیں دونگا، اور وہ قیمت مال مضاربت میں محسوب نہ کرے، تو یہ شرط نا جائز ہے (۲)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔