الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مچھلی کے شکار میں شرکت

سوال

چند کشتی والے مشترک ہو کر مچھلی کا شکار کرتے ہیں، اور ہر ایک کشتی میں دو آدمی ہوتے ہیں، اور کوئی کشتی والا مچھلی پاتا ہے، اور کوئی نہیں پاتا ہے، اور تقسیم کرتے وقت تمام کشتی چلانے والے مچھلی شکار کرنے والے اپنے وعدہ کے مطابق حصہ کر کے برابر لیتے ہیں، اس طرح سے شکار کر کے مچھلی تمام شرکاء کے لئے جائز ہے یا نہیں؟ اس پر سب کا راضی ہونا ضروری ہے یا نہیں؟

جواب

یہ شرکت درست نہیں، جس کشتی والے نے جو مچھلی شکار کی ہے، وہ اس کی ہے، دوسرے کشتی والے اس میں حصہ دار نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو