الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شرکت عنان کی ایک صورت

سوال

چند آدمی ملکر اگر کوئی تجارت کریں، شرکت عنان کے طور پر، اور یہ بھی باہم رضامندی سے طے کر لیں کہ ہر شریک کے ذاتی اخراجات مثلاً کھانا کپڑا علاج وغیرہ اس مشترکہ تجارت کے نفع سے پورے کئے جائیں گے چاہے کسی کے ذاتی اخراجات زیادہ ہوں یا کم ہوں، اور ذاتی اخراجات کے بعد جو نفع بچے گا، وہ حسب حصص مقررہ شرکاء پر تقسیم ہوگا، تو کیا یہ صورت شرکت کی جائز ہے یا کہ نا جائز ہے؟

جواب

یہ طریقہ غلط ہے، اس میں جہالت ہے جو مفضی الی النزاع ہوگی، اس لئے درست نہیں ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو