الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مضاربت میں نقصان کس پر ہے

سوال

ہم دو شخصوں نے شرکت میں کام شروع کیا، ایک نے پیسے لگائے دوسرے نے اس مال کو فروخت کیا، اور چار ماہ بعد معلوم ہوا کہ اصل رقم میں ۵۰۰ روپیہ کی کمی رہ گئی تھی، مال فروخت کرنے والے نے ۵۰۰ / روپیہ اپنے گھر میں بھی خرچ کئے، آپس میں طے تھا کہ نفع آدھا آدھا ہوگا، اور کچھ پیسہ اُدھار میں اٹک گیا اور کچھ سامان خراب ہو گیا، مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ : (۱) اصل رقم کا پورا کرنا ایک کے ذمہ ہے یا دونوں کے؟ (۲) جو خرچہ آمدنی میں سے دوسرے ساجھی نے کیا ہے اس نفع کا کیا ہوگا، دوسرے کو سارا ادا کرنا ہو گا یا آدھا؟ (۳)

جواب

(۱) یہ مضاربت ہے اگر اصل رقم جس سے تجارت کرنا طے پایا تھا، اس میں سے پانچ سورو پیر کم رہے مثلاً تین ہزار دینے کیلئے کہا تھا مگر ڈھائی ہزار دیئے اور اب معاملہ ختم کر دیا گیا تو ان پانچ سو کا دینا لازم نہیں، اگر سوال کا مطلب کچھ اور ہے تو اسکو واضح کر کے لکھئے! (۲)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو