الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شرکت میں نقصان ایک شریک پر ڈالنا

سوال

زید نے عمر کو روپیہ دیا اور کہا کہ ہم دونوں شرکت کے ساتھ تجارت کریں گے، اور جو نفع ہوگا وہ دونوں کا آدھا آدھا ہوگا، کچھ دن گزرنے کے بعد زید نے عمر سے کہا کہ میں نفع کا ایک حصہ لونگا، اور تم نفع کے تین حصہ لینا مگر شرط یہ ہے کہ تجارت میں جو کچھ نقصان ہو گا وہ نقصان تمہارے ذمہ ہوگا، تو اس طرح معاملہ کرنا کیسا ہے؟

جواب

اگر روپیہ دونوں نے دیا ہے، تو یہ شرکت ہے، اس میں نقصان کو صرف ایک شریک پر ڈالنا درست نہیں ہے، اگر روپیہ زید کا ہے اور محنت عمر کرے گا تو یہ مضاربت ہے، نقصان مضارب پر ڈالنا درست نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو