الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شرکت وانعام

سوال

خالد اور بکر نے ایک ایک ہزار روپیہ ڈالکر دونوں نے دو ہزار سے تجارت شروع کی اور معاملہ طے ہوا کہ خالد تجارت میں کوئی کام نہیں کرے گا، بلکہ تمام کام صرف بکری ہی کرے گا، اس لئے بکر کہتا ہے کہ نفع کے تین حصے کئے جائیں، ایک حصہ خالد اور دو حصے میرے، ایک نصف مال کی وجہ سے اور دوسرا میری محنت کی وجہ سے، جبکہ خالد کوئی کام نہیں کرتا، تو یہ درست ہے یا نہیں؟

جواب

یہ درست ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو