الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ایک شریک کا دوسرے شریک کے حصہ کو فروخت کرنا

سوال

ایک ملکیت جس میں دو آدمیوں کا حق ہے، ایک کا حق ۱۲ / آنے کا اور دوسرے کا حق چار آنے ہے اگر یہ ملکیت فروخت کی جائے، اور پہلا شخص ۱۲ / آنے کا حصہ دار دوسرے شخص چار آنے کے حقدار کو بتلائے کہ ملکیت دس ہزار روپئے میں فروخت کی گئی مگر وہ بیچی گئی ہو، ۸۰ ہزار روپئے میں اگر لینے والا شہادت دے پہلے شخص سے مل کر یہ سودا دس ہزار روپئے میں طے ہوا ہے، اس وقت دوسرے شخص کا جو حق مارا جاتا ہے، اس کے لئے پہلے شخص پر کتنی ذمہ داری ہے، نیز خریدنے والا جھوٹی شہادت دے اس پر کتنی ذمہ داری ہے؟

جواب

پہلا شخص (جس کا حق بارہ آنے کا حصہ ہے) کو صرف اپنا حصہ فروخت کرنے کا حق ہے، اگر اس نے اپنے دوسرے شریک کا حصہ بھی فروخت کر دیا تو یہ شریک کی اجازت پر موقوف ہے، اگر وہ اجازت دے گا تو یہ بیچ نافذ ہوگی، ورنہ نہیں، اگر صورت مذکورہ میں اس نے اجازت دے دی ہے اور اس کے بعد اس سے اصل قیمت کو چھپایا گیا ہے تو اس میں جتنی مقدار کو چھپایا گیا ہے، اس کے ایک چوتھائی کا وہ حقدار ہے، لازم ہے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو