الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مشترک زمین پر کسی حصہ دار کا مکان تعمیر کرنا

سوال

ایک بنگلہ میں کچھ حصہ داران تھے ان میں سے ایک زید کے اوپر گورنمنٹ کا کچھ قرضہ باقی تھا، قرض ادا کرنے پر زید کا حصہ گورنمنٹ کی طرف سے نیلام کر دیا گیا، اس حصہ کو بکر نے خرید لیا، دوسرے حصہ داران کا حصہ بدستور قائم رہا، بکر نے کچھ حصہ داران کا حصہ بھی خرید لیا، دو حصہ داران نے اپنا حصہ فروخت کرنے سے انکار کر دیا، بنگلہ کا جب نیلام خریدا گیا، تو بلڈنگ بالکل منہدم تھی، بکر نے خود اس کو تعمیر کی، اس کے بعد اس کو گورنمنٹ نے کرایہ پر لے لیا، کچھ عرصہ کے بعد گورنمنٹ نے ۱۸ ہزار روپے کی رقم دے کر بنگلہ خریدنا چاہا مگر بکر…

جواب

بکر نے جب از سرے نو بلڈنگ تعمیر کی اور وہاں دو حصہ داروں کا بھی حصہ تھا جنہوں نے فروخت نہیں کیا تھا، تو کیا بکر نے ان دونوں سے کہا تھا کہ میں تعمیر کر رہا ہوں، تم لوگ اس جگہ کو تقسیم کر کے اپنا حصہ الگ کر لو، تا کہ اس میں میری تعمیر ہو، اور تم کو اختیار ہے کہ تم اپنی تعمیر جدا گانہ کر دو یا بلا تعمیر رہنے دو یا فروخت کر دو یا ہبہ کر دو، یا وقف کر دو، اگر تقسیم کر کے اپنا حصہ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو