بندوق سے چڑیا کی گردن اُڑ گئی اس کو ذبح کیا گیا
سوال
چڑیا کو گولی کی ضرب ایسی پڑگئی کہ گردن ہی اڑ گئی، سر کا نام و نشان نہیں رہا، گردن کے حصہ میں ذبح کیا، اس سے کچھ خون برآمد ہوا، شرعاً یہ ذبح درست ہوا یا نہیں؟
جواب
گردن کا اتنا حصہ باقی تھا جس میں رگیں ہوتی ہیں، اور پھر ذبح کر دیا گیا تو درست ہو گیا اگرچہ سر باقی نہیں رہا تھا، اگر یہ رگیں باقی نہیں رہی تھیں، یعنی گردن کا اتنا حصہ بھی نہیں رہا تھا جس میں یہ رگیں ہوتی ہیں تو ذبح درست نہیں ہوا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔