الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کافر کے یا سر کاری سانڈ کو ذبح کر کے کھانا

سوال

زید اس سانڈ کو ذبح کر کے کھالیتا ہے، جس کو کسی کافر نے چھوڑا ہے، یا سرکاری طور پر چھوڑا گیا ہے، کیا شرعاً اس کو چوری چھپے ذبح کر کے کھانا جائز ہے؟ واضح رہے کہ لوگوں کی زبانی معلوم ہوا ہے، کہ کفار اکثر بیشتر اپنے کسی بڑے آدمی یا بت وغیرہ کے نام پر سانڈ وغیرہ چھوڑتا ہے، اس صورت میں سانڈ ”مَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللهِ“ کے تحت داخل ہوگا یا نہیں؟ اگر داخل ہے تو پھر اس سے مسلمانوں کو اپنے جانوروں کو جفتی کرانا شرعاً کیسا ہے؟

جواب

ایسے سانڈ کو ذبح کر کے چوری چھپے سے بھی کھا لینا جائز نہیں، یہ تصرف فی ملک الغیر ہے، اگر وہ غیر اللہ کے نام کا ہے تو ”مَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللهِ“ میں بھی داخل ہے، وہ کسی مسلمان کی گائے سے جفتی کرے تو اس جفتی کو یا اس سے پیدا ہونے والے بچے کو ناجائز نہیں کہا جائے گا، سرکار نے اپنے مال کو کھانے کی سب کو اجازت نہیں دی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو