گردن کی طرف سے ذبح کرنا
سوال
زید نے ایک ہرن کا شکار کیا اور بالمصلحت بجائے حلق کے پاس سے ذبح کرنے کے گردن کے آخری حصے جو کہ سینہ اور دست کی طرف ہے ذبح کیا اور جو شرائط ذبح کے ہیں، ان کی باقاعدہ ادائیگی کی گئی، وہ جانور از روئے شرع حلال ہے یا حرام؟
جواب
عروق ذبح چار ہیں، حلقوم، مری و ودجان، اگر اس طرح ذبح کرنے سے چاروں عرق قطع ہوگئی ہیں تو ذبح درست ہو گیا، جیسا کہ جامع صغیر، فتاویٰ بزازیہ، شامی وغیرہ سے معلوم ہے مگر فتاویٰ عالمگیری میں فتاویٰ اہل سمرقند سے نقل کیا ہے، کہ اس طرح ذبح درست نہیں ہوتا: ”وفي الجامع الصغير: ولا باس بالذبح في الحلق كله اسفله واوسطه واعلاه“ وفي فتاوی اھل سمرقند: قصاب ذبح الشاۃ فی لیلۃ مظلمۃ فقطع اعلی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔