ذبح فوق العقده
سوال
بکر نے ایک مرغ کو ذبح کیا اور اس کا حلقوم منہ کی جانب نہ رہا بلکہ پیچھے ہٹ گیا، تو اس کا کیا حکم ہے، کیا یہ مرغی حلال ہے، یا مکروہ ہے، یا حرام ہے اس کو کھانا جائز ہے، یا نہیں، اور حلقوم کے آگے کٹ جانے پیچھے کو کٹ جانے کی کیا وجہ ہیں، کہ اس کا اعتبار کیا جاتا ہے، نیز ذبح کے شرائط واجبات بھی تحریر فرمادیں، اور مسئلہ کو مدلل تحریر کریں؟
جواب
حلقوم مری و د جان اگر کٹ جائے اور ذابح اہل دین ہو اور عمدا بسم اللہ ترک نہ کرے تو شرعاً ذبیحہ درست ہوتا ہے، اگر حلقوم نہ کٹے تو درست نہیں اگر ذبیحہ فوق العقدہ ما تحت العقدہ ہو اور مذکورہ رگیں کٹ جائیں، تو ذبح میں کوئی اشکال نہیں ہے بعض فقہاء کی رائے ہے کہ کٹ جاتی ہیں بعض کی رائے ہے کہ نہیں کٹتیں، زیلعی کے حاشیہ میں غایۃ التحقیق شرح ہدایہ سے اس کے متعلق بحث منقول ہے، علامہ شامی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔