الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

لب دریا حظیرہ بنایا اس میں مچھلیاں آ گئیں ان کا دوسرے کو پکڑنا (عالم کو چور کہنا یا گالی دینا)

سوال

- تقریباً عرصہ ۲۵ سال سے زید نے کچھ سرکار سے بند و بستی شدہ زمین جو لب دریا پر واقع ہے دریا کے پانی کے طغیان سے حفاظت کی غرض سے سرکار نے اس زمین کے دریائی کنارہ پر ایک اونچی آڑ بنادی ہے، زید نے سرکار سے اجازت لیکر اس آڑ میں ایک نالی اپنی زمین کی محاذات میں بنائی ہے تاکہ حسب ضرورت اندرونی پانی نکل جائے، یعنی زید عمرو و بکر کی مشرقی زمین کا پانی نکل جائے، پانی زیادہ جمع ہونے سے زراعت کو ضرر رسانی نہ ہو اور اس نالی کے منہ پر ایک حظیرہ بنایا ہے، اور اس میں درخت کی شاخیں وغیرہ ڈالی ہیں، تاکہ مچھلیاں جمع ہوں، چنانچہ…

جواب

(الف) محض اس وجہ سے اس نالی کا پانی بند کرنا زید کے ذمہ ضروری نہیں۔ (ب) نہیں بلکہ مباح ہوگا لانہ مباح الاصل۔ (د) محض مچھلیوں کی اجازت نہ دینے پر تو آڑ کا اونچا کرنے کا مطالبہ ناحق ہے، اگر اس سے زراعت کو نقصان پہنچتا ہے، تو پھر مطالبہ درست ہے، اور چونکہ آڑ سرکار نے بنائی ہے، اس لئے اونچا کرنے کا مطالبہ سرکار ہی سے کیا جائے۔ (ہ)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو