کانٹے میں مچھلی پکڑنا درست ہے
سوال
- بعض جگہ اپنے ذاتی تالاب میں سے شوق سے مچھلی پکڑتا ہے اور جب بڑی مچھلی کانٹے میں لگ جاتی ہے تو اس کو فوراً پانی سے اوپر اٹھانا مشکل ہے، اس لئے جب وہ مچھلی بھاگتی ہے، تو وہ ڈور کو ڈھیل دینا پڑتا ہے، بعدہ اس کو آہستہ آہستہ کھینچنا پڑتا ہے، اس طرح کافی دیر تک ہوتا رہتا ہے، جب وہ مچھلی تھک جاتی ہے تو اس کو پانی سے اٹھانا پڑتا ہے، بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ جائز نہیں، وہ لوگ علت بیان کرتے ہیں کہ اس کو تکلیف ہوتی ہے، اس لئے تحریر فرمائیں، کہ کیا اس طرح مچھلی پکڑنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
جب کہ بڑی مچھلی کانٹے میں پھنستی ہے تو فوراً اس کو ڈور سے کھینچنا دشوار ہے، اس لئے ڈھیل دیتے ہیں، جب وہ تھک جاتی ہے تو اس کو کھینچ لیتے ہیں، شرعاً اس میں مضائقہ نہیں، یہ ایسا ہے جیسا کہ خشکی کے جانور کو بھگاتے ہیں، جب وہ بھاگتے بھاگتے تھک جاتا ہے اور گر جاتا ہے، تو اس کو پکڑ لیتے ہیں، ہاں بلا وجہ تکلیف دینا غلط ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔