الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مچھلی طافی ممنوع ہے

سوال

اختری بہشتی زیور میں جو یہ مسئلہ مذکور ہے، جو مچھلی مرکر پانی کے اوپر الٹی تیرنے لگے اس کا کھانا درست نہیں، اس کے حاشیہ پر: ”ولا یحل حیوان مائی الا السمک غیر الطافی“ (در مختار ج۵/ص۲۹۲) (۲) طافی کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ طافی کا اطلاق کب ہوگا کیا وہ مچھلی جس کو کسی انسان نے پکڑ کر کسی مصلحت کی بنیاد پر دو چار دن پانی میں رکھ دیا، اور انہیں ایام میں وہ مچھلی مرگئی الٹی تیری نہیں تو کیا حکم ہے؟ (۳)

جواب

جو مچھلی خود بخود موت سے مرکر پانی کی سطح پر آجائے وہ طافی ہے، جس کا کھانا ممنوع ہے، اگر مچھلی پانی کی قلت یا گرمی یا سردی یا دوا یا اور کسی آفت سے مر جائے اس کا کھانا ممنوع نہیں: ”ولا يحل حيوان مائي الا السمك غير الطافي على وجه الماء الذي مات حتف انفه وهو ما بطنه من فوق فلو ظهره من فوق فليس بطاف فيؤكل كمايؤكل مافي بطن ومامات بحر الماء او برده او بربطه فيه او القاء شئ فيه…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو