الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

وقت مقررہ سے کچھ تاخیر کرنا کسی کے انتظار میں!

سوال

مساجد میں عموماً جماعت کیلئے وقت مقرر ہوتا ہے لیکن اگر کبھی کسی وجہ اور کسی ضرورت سے امام پانچ سات منٹ کی تاخیر کر دے وقت مقررہ سے تو کیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟ یا کسی معزز عالم دین اور کسی بزرگ کے انتقال پر بھی تھوڑی سی تاخیر ہوسکتی ہے، اکثر لوگ اس پر خفا ہو جاتے ہیں اور وقت مقرر پر تاخیر کوحرام اور گناہ تصور کرتے ہیں، لہذا اس مسئلہ پر روشنی ڈالیں۔

جواب

نمازوں کے اوقات میں موجودہ مروجہ گھڑی کے اعتبار سے سہولت پیدا ہوتی ہے کہ پابند جماعت نمازی شرکت جماعت سے محروم نہ رہیں اگر اسمیں قدرے تغیر ہو جائے اور شرعی طریقے پر وقت مکروہ داخل نہ ہو تب بھی نماز بالیقین درست ہو جاتی ہے، یہ عقیدہ رکھنا کہ پانچ سات منٹ تاخیر کرنے سے نماز درست نہیں ہوگی یا یہ تاخیر کرنا حرام ہے غلط عقیدہ ہے اس کی اصلاح ضروری ہے، جو شخص جماعت کا پابند ہو اور…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو