نمازوں کے اوقات جنتری سے مقرر کرنا
سوال
حاجی اور نمازی کچھ اس قدر نیک ہیں کہ ان کی باتیں سمجھ سے بالا تر ہیں ان کے آئے دن کے مسائل سے مساجد ویران ہیں یہاں یہ مسئلہ درپیش ہے کہ کسی بھی وقت کی جماعت کی نماز میں لوگوں کی رعایت ضروری ہے۔ یا جو ٹائم مقرر علی الاعلان کیا گیا ہے بھی معترض حاجی ونمازی کہتے ہیں کہ میں سنتیں پڑھ رہا تھا کہ امام نے جماعت کی تکبیر کیوں پڑھنے دی کبھی کہتے ہیں کہ جماعت کی نماز بہت طویل ہونی چاہیے اگر کبھی اتفاق سے پہلے آگئے تو سارے اعتراض مفقو دور نہ اعتراض کی باری ہے، سوال یہ ہے کہ (۱)
جواب
(۱) اس پریشانی سے نجات کیلئے سلامتی اس میں ہے کہ سال بھر کی نمازوں کے اوقات وہاں کے حالات کے مناسب جنتریوں کو دیکھ کر نیز آس پاس کی مسجدوں کا حال معلوم کر کے متعین کر لئے جائیں اور ہر ماہ کا نقشہ اوقات مسجد میں لگا دیا جائے تا کہ امام صاحب اس وقت پر جماعت شروع کرا دیا کریں اور آنے والے اس کی پابندی کریں۔ (۲)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔