دھوپ سے عصر کا وقت معلوم کرنے کا طریقہ!
سوال
ہمارے یہاں راجستھان میں آج کل طلوع وغروب کے اوقات میں اور یہاں کے اوقات میں بارہ منٹ کا فرق ہے حسینی دوامی جنتری میں یہاں کا طلوع آفتاب کا وقت ۳۳/۶، اور نصف نہار کا وقت ۳۰/۱۲ / اور غروب آفتاب کا وقت ۳۹/۶، لکھا ہے اور ہمارے یہاں ۱۲ /منٹ بعد یہ اوقات ہوتے ہیں یعنی ۴۵/۶ / پر طلوع آفتاب اور ۴۲/۱۲ / پر نصف النہار اور ۵۱/۶، پر غروب آفتاب اس لحاظ سے ہمارے یہاں اگر عصر کی نماز ساڑھے چار بجے ہو تو کیا صحیح ہوگی یا نہیں؟
جواب
اس کا شرعی قاعدہ یہ ہے کہ جس وقت سورج بالکل سر پر ہو کسی سیدھی چیز مثلا لکڑی زمین میں گاڑ کر دیکھ لیا جائے کہ اس کا کتنا سایہ ہے اس کو سایہ اصلی کہتے ہیں پھر جب اس لکڑی کا سایہ دو مثل ہو جائے سایہ اصلی کے علاوہ تب عصر کا وقت شمار کیا جائے گا مثلا لکڑی ایک گز کی ہے اور سورج سر پر ہونے کے وقت اس کا سایہ ایک بالشت ہے تو جب اس کا سایہ دو گز اور ایک بالشت ہو جائیگا تو سمجھئے کہ عصر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔