وقت مقررہ سے کچھ پہلے نماز
سوال
امام اپنی خوشی کے مطابق نماز پڑھاوے وقت کے خلاف یہ عمل کیسا ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں بالتفصیل جواب مرحمت فرمایا جائے۔
جواب
اگر نماز کا وقت ہی نہ ہوا ہو تو نماز پڑھنا پڑھانا ناجائز ہے۔ اگر وقت تو ہو گیا لیکن کسی عارض کی وجہ سے وقت مقررہ سے دو چار منٹ پہلے امام نے نماز پڑھا دی اور پابند جماعت نمازی بھی آچکے تھے تو اس میں مضائقہ نہیں اگر پابند جماعت نمازی نہیں آئے تھے تو وقت مقررہ تک ان کا نتظار کرنا چاہئے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔