مشرک کے لئے دعائے مغفرت
سوال
ایک شخص عبد الحئی تھا اعمال شرکیہ میں مبتلا تھا، عقیدہ بھی شرک کا رکھتا تھا، اور لوگوں کو بھی شرک میں مبتلا کرتا تھا، اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضر و ناظر کہتا تھا، نذر و نیاز کرتا اور کراتا تھا غیر اللہ کی، اکابرین امت کو کافر کہتا تھا اب وہ مر گیا، میں اس کو مشرک کہتا ہوں اور اس کے لئے دعاء مغفرت وغیرہ کچھ نہیں کرتا ہوں کیا میں اس کو شرعاً مشرک سمجھوں یا دعاء مغفرت وغیرہ کروں؟
جواب
جو شخص بحالت شرک مرے اس کے لئے دعاء مغفرت نا جائز ہے، مگر اس کا حکم لگانا کہ فلاں شخص مشرک مرا ہے یہ بھی آسان کام نہیں ہے بہر حال جس پر شرک کا حکم نہ لگایا جائے دعائے مغفرت تو اس کے لئے بھی لازم نہیں سکوت ہی مناسب ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔