الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دعا کس نیت سے مانگی جائے

سوال

سب کچھ منجانب اللہ ہے، تو محض اس نیت سے دعا کی جائے کہ ہوگا تو وہی جو اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے، لیکن ہم کو مانگنے کا حکم ہے، لہٰذا مانگیں، عطا ان کا فضل ہے نہ ملے تو اس میں عین خوشی، اور مل جائے تو شکر کریں ایسا خیال کیسا ہے؟

جواب

گو یہ خیال فی نفسہ صحیح ہے، لیکن اس میں ایک قسم کا استغناء ہے، اس لئے دعا اس طرح مانگنا چاہئے کہ بہت حاجت ہے مالک تو ہی حاجت پوری فرما، اور دل میں یہ بھی رکھے کہ اگر نہ دینے میں مصلحت ہو تو اس میں بھی راضی ہوں، اور اللہ پاک میرے دل کو اسی پر اطمینان ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو