اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيم کی دعا کا أثر
سوال
ایک شخص صوم و صلوٰۃ کا پابند ہے اور ہر نماز میں اھدنا الصراط المستقیم کی دعا بڑے خلوص سے مانگتا ہے، مگر اس کے عقیدے درست نہیں ہوتے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضر و ناظر سمجھتا ہے، قبور پر سجدہ ریز ہوتا ہے،عرس، میلے، قوالی اور دیگر خرافات نذر و نیاز اولیاء کا قائل ہے، تو اس کے لئے اہدنا الصراط المستقیم کب قبول ہوگی، یا پھر وہ جو کچھ کرتا ہے وہی صراط مستقیم ہے؟
جواب
قبول دعا کے کچھ شرائط بھی ہیں، کھانا حلال، پینا حلال، لباس حلال، کسب حلال نہ ہو تو دعا قبول نہیں ہوتی، ہدایت کے بھی درجات ہیں، نماز کی پابندی نصیب ہونا، یہ بھی صراط مستقیم کی ہدایت ہے، اور قبول دعا کا اثر ہے، کسی غیر مطلوب چیز کا ملنا یا مضر چیز کا دفع ہونا بھی دعا کے قبول کا اثر ہوتا ہے، کبھی دیر بعد مطلوب کا ملنا بھی اثر ہوتا ہے، الغرض کسی غلط چیز پر قائم نا غلط پیر پر رہنا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔