وطن اقامت
سوال
احقر کچھ عرصہ طویل قیام کے ارادہ پر ہردوئی مع اہل وعیال مقیم ہے۔ درمیان میں بعض ضروری کاموں کی وجہ سے وطن وغیرہ کا سفر بھی کرنا پڑتا ہے۔ بعض مرتبہ ہر دوئی میں پندرہ دن سے زائد مستقل ٹھہرنا پڑتا ہے اور بعض دفعہ کم۔ ایک صاحب نے بتلایا ہے کہ آپ ہر دوئی میں مسافر ہیں، میں نماز کیسے ادا کروں؟ میری حیثیت ہر دوئی میں کیا ہے؟
جواب
موجودہ حالت میں جب کہ آپ نے ہر دوئی کو وطنِ اصلی نہیں بنایا اور نہ اپنے وطن اصلی کو ترک کیا تو ہر دوئی آپ کیلئے وطن اقامت ہے۔ جب تک کم از کم پندرہ روز قیام کا ارادہ نہ ہو آپ یہاں مسافر ہی رہیں گے اور مسافر کے سب احکام آپ پر جاری ہوں گے۔ جن صاحب نے آپ کو مسافر تشخیص کیا ہے ان کی تشخیص صحیح ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔