وطن اصلی کب باطل ہوتا ہے
سوال
زید کا وطن اصلی مدہول ہے چند وجوہات کی بنا پر وہ مدہول چھوڑ کر نظام آباد میں مع اپنے والدین کے آکر مقیم ہوتا ہے حالانکہ مدہول میں زید کا ایک مکان بھی ہے اور اس کا تعلق بھی مدہول سے ہے۔ اب زید کونوکری ملنے پر وہ حیدر آباد آتا ہے جب کہ اس کے والدین نظام آباد میں مقیم ہیں۔ اب اگر زید اپنے والدین سے ملنے نظام آباد جائے اور اپنے آبائی وطن مدہول جائے تو کیا زید مسافر کہلائے گا؟ کیا اس کو قصر نماز ادا کرنی ہوگی یا وہ پوری نماز پڑھے گا؟
جواب
مدہول وطن اصلی ہے جب تک اس کی وطنیت کو بالکلیہ ترک کر کے (مکان وغیرہ فروخت کر کے یا کسی کو دیکر)دوسرے کسی مقام کو وطن مستقل نہیں بنا لیا جائے گا اس کی وطنیت ختم نہیں ہوگی،ہاں پہونچ کر پوری نماز پڑھنے کا حکم ہوگا، خواہ دور سے پہونچے یا نزدیک سے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔