وطن اقامت کیسے باطل ہو جاتا ہے؟
سوال
وطن اقامت کے بطلان کے لئے مطلق سفر کافی ہے یا کوئی خاص سفر؟ اسی طرح مطلق وطن اصلی کافی ہے یا کوئی خاص صورت؟ اگر کوئی اپنا سامان اپنے وطن اقامت میں چھوڑ کر لوٹ کر آنے کے ارادے سے سفر کرے یا وطن اصلی میں چلا جائے تو وطن اقامت باقی رہے گا یا باطل ہو جائے گا؟
جواب
سفر شرعی سے وطن اقامت باطل ہو جاتا ہے اس کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وطنِ اقامت سے ہجرت کرے اور پھر کبھی وہاں آنے کا ارادہ نہ ہو۔ جس جگہ سے گیا ہے اور سامان وہاں موجود ہے۔ پھر جب وہ وہاں آئے گا اور پندرہ روز قیام کا ارادہ کرے گا تو وطن اقامت بنے گا۔ اس سے کم کی نیت سے وہ وطن اقامت نہیں بنے گا بلکہ وہ بحکم سفر ہی رہے گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔