داماد کے لئے سسرال میں اور عورت کے لئے میکہ میں قصر واتمام کا حکم
سوال
(۱) زید کی سسرال اتنی دور ہے جتنی دور میں آدمی شرعی مسافر ہو جاتا ہے یا اس سے بھی دور ہے۔ زید اگر اپنی سسرال جائے تو زید کو وہاں پہونچ کر قصر نماز پڑھنی ہوگی۔ اگر پوری نماز پڑھنی ہوگی تو اس کی کیا وجہ ہے۔ قاعدہ کی رو سے وہ مسافر ہو چکا اور پھر وہ! پوری نماز پڑھے اور زید کا ارادہ بھی وہاں ٹھہرنے کا دو دن یا کم وبیش کا ہے یعنی پندرہ یوم سے کم، پھر بھی وہ مسافر نہیں ہوا۔ فتاوی دار العلوم جلد ۴ میں ص ۴۷۱ پر تحریر ہے۔
جواب
(۱) ص ۴۸۸/ کے سوال تصریح میں ہے سسرال میں اگر اسی ۸۰ کوس کا فاصلہ ہے تو زید کو سسرال پہونچ کر پوری نماز پڑھنی چاہئے یا قصر کرنا چاہئے؟ اس کا جواب ظاہر ہے کہ پوری نماز پڑھے۔ اس کی مسافت پر شرعی سفر نہیں ہوتا۔ ص ۴۷۱ کے سوال میں سو ۱۰۰ میل کی تصریح ہے جس پر شرعی سفر کے احکامات جاری ہوتے ہیں، یہ فرق بدیہی ہے محض کسی جگہ نکاح کر لینے سے وہ جگہ وطن اصلی نہیں ہو جاتی جیسا کہ ص ۴۷۱ کے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔