مسبوق کی نماز مسافر امام کے پیچھے
سوال
امام مسافر ہے اگر التحیات میں کوئی مقتدی مسافر جس کو امام کا مسافر ہونا معلوم ہو تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد وہ مقتدی اپنی دونوں رکعت بھری پڑھے گا یا خالی۔ اگر مقتدی مقیم ہے تو امام کے سلام کے بعد وہ مقتدی پہلی اپنی دورکعت بھری پڑھے گا اور آخری کی دونوں خالی یا کیا؟
جواب
بھری پڑھے گا کیونکہ وہ اس وقت مسبوق ہے اور مسبوق منفرد کے حکم میں ہوتا ہے۔ انه (اى المسبوق) منفرد فيما يقضى. اھ فتاوی عالمگیری ص ۲۹۱ اور مقیم مقتدی صورت مسئولہ میں لاحق مسبوق ہے لہٰذا سلام امام کے بعد اول دو رکعت بلا قراءت پڑھے گا اور پھر دو رکعت قراءت کے ساتھ اللاحق يصلى على ترتيب صلوة الامام والمسبوق يقضى ماسبق به بعد فراغ الامام ا ه رد المحتار، اور بعض علماء اس کے برعکس کا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔