الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مقتدی مسافر نے امام مقیم کے اقتداء میں قصر کی نیت کی

سوال

زید ایک شرعی مسافر ہے اور دورانِ سفر کسی مقام پر ظہر کی نماز کا وقت ہو جاتا ہے اور زید وہاں کے امام کے پیچھے جو کہ مقیم ہے مسافر نہیں نماز پڑھتا ہے اور زید مسافر ہونے کی وجہ سے نیت قصر یعنی دو فرضوں کی نیت کرتا ہے اور نماز مقیم امام کے ساتھ پوری پڑھتا ہے۔ یعنی چار فرض تو کیا نیت کے اس اختلاف سے زید کی نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ اور اگر زید کو معلوم ہے کہ امام مسافر ہے نہ کہ مقیم تو کیا نیت کرے؟ اور زید (جو کہ مسافر ہے) اس کے لئے نیت کا صحیح طریقہ کیا ہے؟

جواب

مسافر نے دورکعت کی نیت کر کے بھی اگر مقیم امام کے پیچھے چار رکعت صحیح طریقہ پر ادا کی ہے تب بھی اس کی نماز درست ہوگئی۔ اگر امام کا حال معلوم نہ ہو کہ وہ مسافر ہے یا مقیم ہے تو دو یا چار کی تعیین کی کوئی ضرورت نہیں محض ظہر کی نیت کافی ہے۔ عدد رکعت کی تعیین نیت میں مسافر یا مقیم کسی کے لئے بھی ضروری نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو