سجدہ تلاوت کی جگہ رکوع
سوال
اگر کوئی شخص اقرأ باسم ربک الذی خلق فرض نماز میں پڑھتا ہے یعنی جہری نماز میں مثلاً عشاء یا سری نماز میں مثلاً ظہر، وہ شخص اس سورۃ کے اخیر میں سجدہ تلاوت ادا نہیں کرتا تو کیا وہ سجدہ نماز کے سجدہ سے ادا ہو جائے گا؟ یا سجدہ تلاوت نماز کے اندر کرنا واجب ہوگا؟ اور تارک سجدہ گنہ گار قرار دیا جائے گا؟
جواب
اگر اس سورۃ کے ختم پر سجدہ نہیں کیا بلکہ رکوع کیا اور اس رکوع میں سجدہ تلاوت کی نیت کرلی ہے تو اس سے سجدہ تلاوت ادا ہو گیا اور اگر نیت نہیں کی تو سجدہ صلوٰۃ سے یہ سجدہ تلاوت بلانیت ہی ادا ہو جائے گا، اگر امام نے رکوع میں سجدہ تلاوت کی نیت کر لی ہے تو جس مقتدی نے اس میں نیت کی ہو اس کا سجدہ ادا ہو گیا اور جس نے نیت نہیں کی اس کا ادا نہیں ہوا، وہ نماز امام کے بعد سجدہ کرے، پھر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔