سجدہ تلاوت رکوع میں ادا کرنا
سوال
زید نے نماز میں سورہ” اقرأ“یا” نجم“یا سورہ فرقان“پڑھی اور سجدہ کی آیت پڑھ کر فوراً رکوع میں چلا گیا اور نماز پوری کر لی، سلام کے بعد کسی صاحب نے یہ دریافت فرمایا کہ آپ نے سجدہ کیوں نہ کیا جب کہ واجب ہے، زید جواب دیتا ہے کہ اگر سجدہ کی آیت پڑھ کر فوراً رکوع میں چلا جاوے اور رکوع ہی میں سجدہ کے ادا ہونے کی نیت کرلے تو ادا ہو جاتا ہے اور اگر نیت نہیں کی تو رکوع کے بعد جو نماز کا سجدہ کیا جاتا ہے اس میں ادا ہو گیا۔ زید کا یہ کہنا صحیح ہے یا نہیں؟ فقط
جواب
زید کا قول صحیح ہے آیت سجدہ پڑھ کر اگر فوراً رکوع کیا جائے اور اس میں سجدہ تلاوت کی نیت کر لی جائے تو اس سے ہی سجدہ تلاوت ادا ہو جاتا ہے ورنہ پھر سجدہ صلوٰۃ سے بغیر نیت بھی ادا ہو جائے گا، اگر چہ افضل یہ ہے کہ سجدہ تلاوت مستقل ادا کیا جائے کیوں کہ اگر امام نے رکوع میں تو نیت کی اور کسی مقتدی نے نہیں کی تو اس مقتدی کا سجدہ ادا نہ ہوگا بلکہ اس کو سلام امام کے بعد سجدہ کرنا ہوگا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔