الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

امام قنوت کو بھول کر رکوع میں چلا گیا پھر کھڑے ہو کر قنوت پڑھی اور رکوع سجدہ کیا

سوال

جب کہ امام رمضان میں وتر پڑھا رہا ہے اور تیسری رکعت میں دعاء قنوت بھول گیا اور رکوع کے اندر چلا گیا یعنی خوب جھک گیا اور بہت مقتدیوں نے اللہ اکبر کا لقمہ دیا اور اب امام لقمہ لے کر سیدھا کھڑا ہو گیا اور تکبیر کہی اور دعاء قنوت پڑھی اور پھر رکوع میں چلا گیا وہ وتر ہو گئے ہیں یا نہیں؟ شرعا جواب دیجئے اور کتاب کا حوالہ دیجئے۔

جواب

دعائے قنوت بھول کر جب امام رکوع میں چلا گیا تو اس کو لوٹنا نہیں چاہئے تھا تاہم جب دوبارہ لوٹا اور دعاء قنوت پڑھی پھر دوبارہ رکوع کی ضرورت نہیں تھی اگر رکوع دوبارہ کر لیا تب بھی نماز صحیح ہو گئی بشرطیکہ سجدہ سہو کر لیا ہوا گر سجدہ سہونہیں کیا تو اعادہ واجب ہے،

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو